Saturday, 22 Feb 2020

خواتین کو حقوق دینا مرد بمقابلہ عورت نہیں بلکہ انسان کو انسان کا حق دلانا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی شعبہ معاشیات کے زیر اہتمام ’خواتین کی اقتصادی طاقت میں اضافہ: شواہد پر مبنی حکمت عملی ‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ خواتین کو حقوق دلانا عورت بمقابلہ مرد یا مشرق بمقابلہ مغرب کی جنگ نہیں ہے بلکہ ہر انسان کو اس کا حق دلانا اور معاشرے میں اسے وہ حقوق فراہم کرنا ہے جس کا وہ حقدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ عورت کو عورت کی عزت سکھانے اور ثقافتی رویوں میں تبدیلی کی بھی ضرورت ہے۔ پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کے آڈیٹوریم میں منعقد ہونے والے سمپوزیم میں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر نیاز احمداختر، وائس چانسلر ہوم اکنامکس یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر کنول امین، وائس چانسلر یونیورسٹی آف اوکاڑہ پروفیسر ڈاکٹر محمد ذکریا ذاکر، ایم پی اے مسرت جمشید چیمہ، چیئرمین شعبہ معاشیات پروفیسر ڈاکٹر ممتاز انور چوہدری، ڈاکٹر روبینہ ذاکر، سول سوسائٹی کے مختلف نمائندوں، فیکلٹی ممبران اور طلباء و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر نیاز احمد نے کہا کہ معاشرے میں مختلف طبقات ہوتے ہیں اور سماجی نظام کا اہم کردار ہوتا ہے جسے سمجھے بغیر مسائل حل نہیں کئے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ بطور وائس چانسلر وہ کسی بھی سطح پر یہ محسوس نہیں کرتے کہ خواتین کسی شعبے میں پیچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے ا ہم عہدوں پر خواتین کو تعینات کیا ہے جہاں مردوں کو تعینات کیا جا سکتا تھا جبکہ بیہوریل اینڈ سوشل سائنسز کی فیکلٹی میں میرٹ پر ڈین سمیت تمام اداروں کی سربراہان خواتین ہیں اور انتظامی طور پر کسی بھی سطح پر خواتین نے مایوس نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق سے متعلق پاکستان میں صورتحال بہت بہتر ہے۔ اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم پاکستان میں بنیں اور ہماری قومی اسمبلی کی سپیکر بھی خاتون رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب مقابلے کا دور ہے جس میں جو بہترین ہے وہ ہی اپنی جگہ بنا پاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ خواتین کو تعلیم دینے کا مطلب قوم کو تعلیم یافتہ اور مہذب بنانا ہے اس لئے خواتین کی تعلیم کو ترجیح دینی چاہئے۔ ایم پی اے مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کو مزید مضبوط کر کے مردوں کے شانہ بشانہ چل کر ملکی ترقی میں کردار ادا کرنے کی ضرور ت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرد اور خواتین مقابلے کی بجائے پارٹنرشپ کی سوچ کے ساتھ کام کریں تو بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے بچوں کی تربیت اس انداز میں کرنی چاہیے کہ وہ دوسروں کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی عزت اور احترام دیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خواتین کی ترقی کیلئے کام کر رہی ہے جس کا نعرہ ہونا چاہیے’مقابلہ نہیں بلکہ پارٹنر شپ‘۔ وائس چانسلر ہوم اکنامکس یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر کنول امین نے کہا کہ معاشرے میں ایک عورت کی عورت کے طورپر عزت کرنے اور سماجی ترقی میں خواتین کے کردار کو سراہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورکنگ ویمن کو دوہرے چیلنجز کا سامنا رہتا ہے،انہیں محفوظ ماحول فراہم کیا جانا چاہیے اور گھریلو خواتین کو بھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عورتوں، بچیوں اور بچوں کیلئے محفوظ معاشرہ قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشی طور پر مضبوط یا مرد سے زیادہ پیسے کمانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عورت کو حقوق مل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گھروں میں بہت سی کام کرنے والی خواتین کے مرد عام طور پر نشہ کرتے ہیں اور وہ اپنی خواتین پر تشدد بھی کرتے ہیں اور ان سے پیسے بھی لیتے ہیں اور عورت اگلے دن نشئی مرد کے نشے کے لئے کام پر آجاتی ہے۔ اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذکریا ذاکر نے کہا کہ ایک ایسا معاشرہ جس میں مردوں کی برتری ہو وہاں خواتین پر قدغن لگ جاتے ہیں اگر ان قدغنوں کو ختم کریں گے اور خواتین کو آگے بڑھنے کے مواقع دیں گے تو وہ خود بخود اوپر آ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی رکاوٹوں کو دور کرنے سے خواتین کی روزمرہ زندگی میں شراکت داری بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی ترقی کے لئے مائنڈ سیٹ کی تبدیلی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوکاڑہ یونیورسٹی میں طالبات کی شرح ستر فیصد ہے انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق کا مطلب مغرب بمقابلہ مشرق نہیں ہے بلکہ عام زندگی میں ان کو ان کا مقام دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاتون اور مرد دونوں کو عام انسان کی طرح رہنے دیں۔ پروفیسر ڈاکٹر ممتازانور چوہدری نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی ہمیشہ سماجی، معاشی اور ملکی مسائل پر پالیسی سازی میں رہنمائی فراہم کرتی رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی، شعبہ اکنامکس اور اکیڈمک سٹاف ایسو سی ایشن نے آج کا پروگرام خواتین کومعاشی طور پر طاقتور بنانے کے حوالے سے منعقد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی نے خواتین کی مضبوطی کیلئے اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں 40فیصداساتذہ اور ایک فیکلٹی کی تمام سربراہان خواتین پر مشتمل ہیں۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *