Tuesday, 12 Nov 2019

“رٹے کا نظام – قابلیت کا ضیاع”

تحریر: ابنِ مُنیب

[ نظامِ_تعلیم، رٹا – “رٹو طوطے” ]

فرض کریں کہ میں آپ کو دس غزلیں دے کر کہتا ہوں کہ اِن میں سے آپ کا امتحان لیا جائے گا (مثلاََ تشریح کا)۔

اب ہو سکتا ہے کہ آپ اِن غزلیات کا تفصیلی جائزہ لیں، اِن میں استعمال ہونے والے الفاظ اور تراکیب کے معنی و مفہوم سمجھنے کے ساتھ اُن کی جڑوں کا بھی مطالعہ کریں (اشتقاقیات) تا کہ آپ کی جان پہچان اِن الفاظ سے ایک گہرے درجے تک ہو جائے۔ ساتھ آپ اچھی کُتب اور اپنے بڑوں (والدین، اساتذہ) کی مدد سے شعری روایات اور تخلیقی تحریر کے اجزاء اور اُسے جاندار بنانے والے ہتھیاروں (صنعتوں) کے بارے میں بھی ضرورت کی حد تک جانیں اور پھر اِس معلومات اور چند مثالوں کی مدد سے اِن غزلیات کی تشریح کی مشق کریں (جس میں آپ ساتھ ساتھ بڑوں کی رہنمائی بھی حاصل کریں)۔

پر زیادہ امکان یہ ہے کہ اب تک آپ دھاڑیں مار مار کر ہنس رہے ہوں گے اور ہنستے ہنستے آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ہوں گے۔ “اتنا وقت کس کے پاس ہے؟”، “اور اِس سب کی ضرورت ہی کیا ہے؟”، “گائیڈ بُک، ٹیوشن باجی، یا ماسٹر جی کے نوٹس کافی ہوں گے۔ وہی یاد کر لیں گے۔ دس ہی تو غزلیں ہیں”، “اور ویسے بھی گائیڈ/اساتذہ کے نوٹس میں زیادہ اعلی پائے کی تشریح ہو گی، جس سے امتحان میں نمبر بھی اچھے مِل جائیں گے۔ میں بھی خوش، گھر والے بھی خوش، سکول والے بھی خوش”۔

پر اب اگر میں دس کی بجائے دس ہزار غزلوں کی فہرست آپ کو دے کر کہوں کہ اِن میں سے آپ کا امتحان لیا جائے گا تو اِس صورت میں کیا آپ اِن غزلوں کی تشریح نوٹس سے یاد کریں گے؟ یا تشریح کے فن اور جن علوم پر وہ مبنی ہے (شعری روایات، تخلیقی تحریر کے اجزاء، تحریری صنعتیں) کو سمجھنے کی کوشش اور تجزیے کی مشق کریں گے؟ زیادہ امکان یہی ہے کہ آپ اِن میں سے دوسرا راستہ اختیار کریں گے، کیونکہ پہلا اب ممکن نہیں رہا۔

ہمارا تعلیمی نظام رٹے کو کیوں فروغ دیتا ہے؟ اِس کی بہت سی وجوہات ہیں، پر ایک وجہ جو میری نظر میں انتہائی اہم ہے وہ ہمارا طریقہِ امتحان ہے۔ اور یہی اِس تحریر کا بنیادی موضوع ہے۔

نوٹ کریں تو ہم تقریباََ ہر مضمون میں اپنے بچوں کو ایک مقررہ (اور محدود) مواد دے کر کہتے ہیں کہ اِسی میں سے امتحان لیا جائے گا۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ جب والدین اور اساتذہ کو معلوم ہو کہ امتحانی سوالات اِسی محدود مواد میں سے ہیں گے (بلکہ کچھ صورتوں میں تو ہوبہو وہی ہوں گے جو کتاب میں لکھے ہیں) تو وہ اچھے سے اچھے نوٹس لکھوا کر بچوں کو یاد کروا دینے کو کافی (بلکہ بہتر) سمجھنے لگتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ رٹے کے نظام کی کمر توڑنے کے لئے اہم ترین اقدام اگر ہم نے بحیثیتِ قوم کرنا ہو تو وہ اِس طریقہ امتحان کو یوں بدلنا ہو گا کہ رٹے کے بل بوتے پر کامیاب ہونا تقریباََ ناممکن ہو جائے۔ پھر کہیں جا کر ہمیں عادت پڑے گی کہ تعلیم کو “سمجھنے” اور “سوچنے” کے عمل کے طور پر دیکھیں۔ ہمارے ہاں طلبہ اور والدین کبھی کبھار امتحان میں آنے والے “اَن سین” اور “آؤٹ آف سلیبس” اکا دُکا سوال پر پریشان ہوتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ پورا پرچہ ہی اَن سین سوالات پر مبنی ہونا چاہیے۔ چنانچہ اوپر تشریح کی مثال میں ٹیکسٹ بُک میں موجود غزلیات صرف مشق کے لئے ہونی چاہئیں، اور امتحان میں اردو ادب کی کسی بھی معیاری غزل کے اشعار تشریح کے لئے پیش کئے جانے چاہئیں (ضرورت ہو تو متعلقہ اشعار میں انتہائی مشکل یا کم استعمال ہونے والے الفاظ کے معنی پرچہِ امتحان میں شامل کیے جا سکتے ہیں)۔

اب کچھ ذیلی سوالات کا جائزہ۔

آخر رٹے کا نقصان کیا ہے؟

یہاں رٹے کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ کسی بات کو سمجھے بغیر ہوبہو یاد کر لینا۔ اِس کا سب سے بڑا نقصان تو یہ ہوتا ہے کہ ایسا کرنے والا سوچ اور تجزیے کی قابلیت سے عاری ہوتا ہے۔ بچوں کا دماغ بہت زرخیر ہوتا ہے۔ اگر اُسے صرف یاد کرنے کی مشین بنا دیا جائے تو یہ انسانی قابلیتوں کا بہت بڑا ضیاع ہے جس کا نقصان پورا معاشرہ اور قوم اُٹھاتے ہیں۔ کوئی بھی ایسا نظام جو صرف یاد رکھنے کی قابلیت کو فروغ دیتا ہو دنیا کے نالائق ترین نظاموں میں شمار ہو گا۔ ایسے نظام میں عموماََ کامیاب ہونے والے بھی نقصان میں رہتے ہیں اور ناکام ہونے والے بھی، کیونکہ جو رٹے لگا کر پاس ہو بھی جائیں وہ دنیا کے سوچنے سمجھنے والے تخلیقی ذہنوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اور تجزیے کی صلاحیت سے محروم ہونے کے باعث معاشرے اور قومی حالات میں بہتری کا سبب نہیں بن سکتے۔

پھر جو رٹے کی صلاحیت یا اُس میں قطعی دلچسپی نہ رکھتے ہوں وہ یا تو بد دل ہو کر تعلیمی نظام سے باہر ہو جاتے ہیں یا بار بار فیل ہو کر یا بمشکل پاس ہو کر گھروں اور معاشرے میں “نالائق” اور “تھرڈ ڈویژنر” کہلائے جاتے ہیں۔ اِس طرح بہت سے لائق ذہن صرف رٹے میں “نالائقی” کے باعث اپنا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں۔ چنانچہ جہاں تعلیم کا مقصد سوچنے، سمجھنے، تجزیہ کرنے، اپنی قابلیتوں کو پہچاننے اور استعمال میں لانے کے ماحول کو فروغ دینا ہونا چاہیے، وہاں رٹے پر مبنی تعلیمی نظام تمام صورتوں میں اِس کے برعکس ماحول قائم کرنے میں کامیاب ہونے لگتا ہے۔

مگر کچھ طلبہ اور اساتذہ سمجھنے پر ہی زور دیتے ہیں

بالکل، کسی بھی نالائق نظام میں کچھ افراد ایسے ہو سکتے ہیں جو نظام کے عمومی ماحول اور رجحان سے مختلف راستہ اختیار کریں۔ پر ایک اچھے نظام کا مقصد اکثر و بیشتر افراد کو مفید اور درست ماحول مہیا کرنا اور اُن میں بہترین رجحان کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔

کیا تمام مضامین میں رٹے سے پاک امتحانات لئے جا سکتے ہیں؟

تقریباََ ہر مضمون اور اس کے مختلف اجزاء کے لحاظ سے ایسا طریقہِ امتحان اپنایا جا سکتا ہے جس میں یادداشت کا کم سے کم اور سمجھ اور تجزیے کی قابلیت کا زیادہ سے زیادہ جائزہ لیا جا سکے۔ جہاں کچھ حصے یاد کرنا ناگزیر ہو وہاں بھی کوشش یہی ہونی چاہیے کہ سیکھنے اور اہم بات ذہن میں بٹھانے (اور اُن کا امتحان لینے) کے موثر طریقے استعمال کئے جائیں۔ اِس سلسلے میں کچھ تجاویز میں نے “سیکھنے کا عمل اور مفید گُر” کے تحت لکھی ہیں (تمام سکول/کالج مضامین کے لئے امتحانی طریقے پر الگ سے تفصیلی تجاویز لکھنے کا ارادہ ہے)۔

کیا ہمارے بچوں کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ اس طرح تفصیلی مطالعے اور سمجھنے پر صَرف کر سکیں؟

اگر صبح دن اور شام کا اکثر حصہ سکولوں اور ٹیوشن سینٹروں میں گزارنے کے باوجود ہمارے بچوں کے پاس سیکھنے، سمجھنے اور درست طریقے سے مشق کرنے کا وقت نہیں ہے تو اُس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اُن کو ہر چیز یاد کرنے کے کام پر لگا رکھا ہے۔ جبکہ یوں سب کچھ یاد کروانا انسانی دماغ کا انتہائی غیر موثر استعمال ہے۔

کیا طریقہِ امتحان بدل دینا کافی ہو گا؟

میری رائے میں ہمارا موجودہ طریقہِ امتحان رٹے کے رجحان کا ایک انتہائی اہم محرک ہے۔ اور اِسے بدلنا ایک انتہائی اہم قدم ہو گا رٹے سے آزادی کی جانب۔ پھر اِس کے ساتھ یقیناََ ہمیں اچھی کُتب اور تدریس کے طریقوں کے ذریعے طلبہ کی مدد کرنا ہو گی کہ وہ نئے طریقہِ امتحان (جو سمجھ کا امتحان لیتا ہو) کے لئے بآسانی تیار ہو سکیں۔ چنانچے طریقہِ امتحان بدلنے کے بعد سب سے اہم کردار اچھی کُتب ہی کا ہو گا (کیونکہ ہمارے ہاں بہت سے اساتذہ اور والدین ابھی تک خود بھی کتاب ہی کے محتاج ہوتے ہیں)۔ اِس سے مزید اوپر کی سطح پر دیکھیں تو قوم کی سوچ میں بھی دھیرے دھیرے تبدیلی لانا ہو گی کہ وہ تقابل کی جگہ تعاون اور شورٹ کٹ کی جگہ محنت کو اپنا شعار بنائے۔

کیا عام شہری طریقہِ امتحان تبدیل کروا سکتا ہے؟

میری سمجھ کی حد تک یہ ایک بڑی تبدیلی ہے جو اربابِ اختیار ہی کر سکتے ہیں۔ اِس تحریر کا بنیادی مقصد اِس بڑے مسئلے (غلط طریقہِ امتحان) کی نشاندہی اور طلبہ، والدین اور اساتذہ کی اِس کی جانب توجہ دلانا ہے۔ کیونکہ آگاہی پہلا مرحلہ ہے تبدیلی کے سفر کا۔ اِس کے بعد ہم سب پر ہے کہ ہم تعلیم کے انتہائی اہم شعبے میں ایسی خطرناک نالائقی پر اربابِ اختیار کی پکڑ کرتے ہیں یا سڑک نالیاں بنوا کر خوش ہو رہتے ہیں۔ اِس کے علاوہ سمجھدار والدین اور اساتذہ یہ کوشش کر سکتے ہیں کہ یہ جانتے ہوئے کہ رٹے کا آپشن طریقہِ امتحان کی وجہ سے بالکل کُھلا ہے، پر ہمارے بچوں کی اصل ذہنی نشو و نما اُنہیں سیکھنے، سمجھنے اور خود سے تجزیہ کرنے کی قابلیت بخشنا ہے۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *