Wednesday, 20 Nov 2019

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب کی کتاب مولو مصلی کی تقریب رونمائی۔

اخوت کے بانی ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کی معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی حقیقی کہانیوں پر مشتمل کتاب مولو مصلی کی تقریب رونمائی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سنٹر فار ایڈوانسڈ سٹڈیز میں منعقد ہوئی۔۔ ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کا کہنا تھا کہ ہمارے ارد گرد پسے ہوئے لوگ موجود ہیں جنہیں ہم نظرانداز کردیتے ہیں۔ ہم ناکامیوں کا سارا بوجھ دوسروں کے کندھے پر ڈالنا چاہتے ہیں۔ ہمیں اس معاشرے کی بہتری کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے۔ ایک لاکھ افراد روز 10 روپے عطیہ کریں تو روزانہ 10 لاکھ روپے اور ماہانہ 3 کروڑ روپے بنتے ہیں۔ تین کروڑ روپے سے پندرہ سو خاندانوں کو قرض حسنہ دیا جاسکتا ہے۔ ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جس میں غربت کا نام و نشان تک نا ہو۔ مایوسی گناہ یے، ہمیں پرامید رہنا ہے۔ ہم سب مل کر ریاست کی مدد کے بغیر بھی معاشرے کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ اخوت پر صرف میرا حق نہیں، آب سب اپنی اپنی جگہ اخوت کا عملی مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر ریاض مجید کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر امجد ثاقب کی لکھی کہانیوں کو فلم یا ڈرامہ کی شکل میں لوگوں تک پہنچانا چاہیے تاکہ ان کے سینے میں فلاح انسانیت کیلئے جو درد ہے اس کو دوسروں تک پہنچایا جائے۔ تقریب میں ڈاکٹر اعجاز فاروق اکرم، شیخ محمد اکرم، ڈاکٹر عبدالستار نعیم ، چوہدری حبیب گجر، پرویز خالد شیخ، شہزاد بیگ سمیت ادبی اور سماجی شخصیات نے بھی ڈاکٹر امجد ثاقب کی کتاب اور ان کی شخصیت بارے اظہار خیال کیا۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *