Saturday, 22 Feb 2020

مطالبات پورے ہونے تک اساتذہ نے احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا۔

متحدہ محاذِ اساتذہ پنجاب کے چیئرمین حافظ عبدالناصر، فظ غلام محی الدین،رشید احمد بھٹی،ظفر اقبال وٹو،محمد اشفاق نسیم،محمد اجمل شاد،محمد آصف جاوید،ملک محمد امجد،قیصر شہزاد،محمد صدیق گل اورکاشف شہزاد چوہدری نے کہا کہ ڈنگ ٹپاءو پالیسیوں کی بجائے محکمہ سکولز میں زمینی حقائق کی روشنی میں مستقل پالیسیاں تشکیل دی جائیں ۔ بروقت اور درست اقدامات نہ کئے جانے کی وجہ سے آج عدالتوں میں محکمہ سکول ایجوکیشن کے کیسزسب سے زیادہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ واضح پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے شعبہ تعلیم مسلسل نظر اندازہوتا چلا جا رہا ہے ۔ اس محکمہ میں گذشتہ ڈیڑھ سال کے عرصہ میں 5سے زائد سیکرٹری تبدیل ہوچکے ہیں ۔ فوج کے بعد سب سے بڑا محکمہ ہونے کی وجہ سے اس کے معاملات سمجھنے کے لئے کسی بھی آفیسر کو ایک لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے ۔جب کسی سیکرٹری کو اساتذہ مسائل سمجھ آنا شروع ہوتے ہیں تو اسے تبدیل کردیا جاتا ہے یا وہ خود تبادلہ کروالیتا ہے ۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ مستقبل میں سیکرٹری سکولز کی اسامی پر کسی ماہر تعلیم ہی کوتعینات کیا جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریشنلائزیشن کرتے وقت عدالتی فیصلہ کو مد نظر رکھا جانا بے حد ضروری ہے ۔ حکومت نے استاد کو عزت دوکا نعرہ بلند کیا مگر عملی طور پر اساتذہ کی تذلیل کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ 19فروری کو پنجاب بھر کے اساتذہ پنجاب سول سیکرٹریٹ کے سامنے بھرپور احتجاج کریں گے جو مسائل کے حل ہونے تک جاری رہے گا ۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *