Tuesday, 12 Nov 2019

پروفیسر ڈاکٹر حناء عائشہ بچہ وارڈ میں عید میلے کا اہتمام کیوں کرتی ہیں ۔۔۔۔؟

تحریر: لبیق افضل

ہر سال کی طرح اس سال بھی پروفیسر ڈاکٹر حناء عائشہ کی جانب سے عید میلے کا اہتمام کیا گیا جس میں ای میڈ کے طلباء نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور یقین جانیے مجھے بہت خوشی ہے کہ میں اس تقریب کا حصہ بنا۔ اور اس خوشی کی وجہ اس تقریب کا انوکھا انداز ہے جو میں بعد میں تفصیلاً بیان کروں گا۔

عید میلے کا مقصد ڈپارٹمنٹ آف پیڈز (بچہ وارڈ) میں داخل ان تمام بچوں کی خوشیوں کو دوبالا کرنا ہے جو معاشی و سماجی مجبوریوں کی وجہ سے باقی بچوں کی طرح عید کی خوشیوں میں شامل نہیں ہو سکتے۔ اس عید میلے کے توسط سے ان تمام بچوں کو ان کے من پند کپڑے، جوتے، چوڑیاں، کیپ، مہندی اور دیگر چیزیں بطور عیدی دی جاتی ہیں تا کہ یہ بچے بھی میٹھی عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں۔

آپ نے اکثر ایسی تقاریب دیکھی ہوں گی جس میں منتظم کپڑے اور جوتے خرید کر بچوں میں تقسیم کرتے ہیں جو کہ یقیناً ایک بہت اجر والا عمل ہے لیکن اس عید میلے کی جو سب سے اچھی بات مجھے نظر آتی ہے وہ یہ کہ اس میں روایتی طریقوں کے برخلاف ہر بچے کو یہ آزادی اور چوائس ملتی ہے کہ وہ اپنی پسند کے کپڑے اور جوتے لے سکے۔ اور اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ ڈھیروں اقسام کے اور دو سال سے لے کر 15 سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے کپڑے اور جوتے خریدے جاتے ہیں پھر کئی قسم کی دوکانیں سجائی جاتی ہیں۔

جن میں سیلز مین کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے اپنے ڈاکٹرز اور میڈیکل کے طلباء ہوتے ہیں۔ بچے اپنے والدین کے ساتھ آتے ہیں اور ان کو ان کی پسند کے کپڑے نکال نکال کر دکھائے جاتے ہیں، کسی کو اپنے سائز کی شرٹ پسند آتی ہے تو ساتھ پھر پینٹ کی میچینگ کی جاتی ہے۔ بچیوں کے لیے دیدہ زیب فراک اور کپڑوں کی ایک وسیع تر ورائٹی والدین کو مشکل میں ڈال دیتی ہے کہ بھئ اب اپنے بچے کے لیے کیا لیا جائے۔ اور اس کے بعد جوتوں اور چوڑیوں کی پسند کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔

اس قدر دلکش انداز میں بچوں کے لیے عیدی کا اہتمام کرنا جس میں ان کو اپنی پسند کی چیزیں لینے کی پوری آزادی بھی ملے اور والدین کی عزتِ نفس بھی مجروح نا ہو یقیناً بہت کم جگہوں پر دیکھنے میں آیا ہے اور بچوں کے معصوم چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر کر جو اطمینانِ قلب نصیب ہوا وہ ان الفاظ اور تحاریر سے کہیں آگے کی بات ہے۔

دعا ہے کہ اللہ پاک اُن ننھے نونہالوں کی تمام آزمائشیں دور کرے اور ان کو صحت و تندرستی والی زندگی عطا کرے کیونکہ بچے اپنے ہوں یا پرائے۔۔۔ بچے مسکراتے ہی اچھے لگتے ہیں۔ اسپتال کے فنائل ذدہ ماحول میں، منہ لٹکائے، ہاتھوں میں ڈرپ لگوائے بچے، بلکل اچھے نہیں لگتے۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *