Tuesday, 12 Nov 2019

گرمیوں کی تعطیلات والدین کے لیے بہت بڑا چیلنج ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ والدین اپنے بچوں کی گرمیوں کی تعطیلات کو با مقصد اور پر لطف کیسے بنا سکتے ہیں۔

تحریر: حنا جعفری

hina.jafri2019@gmail.com

گرمیوں کی چھٹیاں بچوں کے لیے کسی خزانے سے کم نہیں ہوتیں۔جس طرح ہم اپنے روزمرہ کے معمولات سے بعض اوقات تنگ آجاتے ہیں اسی طرح پورا سال بچے بھی اپنی مشکل روٹین سے بیزار ہو جاتے ہیں اور موسم گرما کے اثرات کی وجہ سے ان کی طبیعت میں چڑچڑاپن بھی آجاتا ہے۔ بچوں کے لیے اسکول جانااور سارا دن گرمی کی تپش کو برداشت کرنا ہمت کا کام ہے۔بچوں کے لیے ایک ایک لمحہ گزارنا مشکل ہو تا ہے۔روزانہ صبح اٹھنا،یونیفارم پہننا،اپنے وزن سے بھاری بیگ اٹھانااور پھر شدید گرمی کے موسم میں اسکول پہنچنا بچوں کو تھکا دیتا ہے ۔جیسے ہی گرمیوں کی چھٹیوں کا آغاز ہوتا ہے،بچوں کے چہروں پر رونق آجاتی ہے۔والدین کو بھی ایک طرف تو بہت خوشی ہوتی ہے کہ اب ان کا بچہ گرمی کی تپش سے بچ جائے گا اور انھیں اسے پوری تیاری کے ساتھ اسکول بھیجنا نہیں پڑے گا،وہیںوہ اس بات سے پریشان بھی ہو جاتے ہیں کہ اب بچے سارا دن گھر فارغ گزاریں گے اور اسکول جانے کی وجہ سے ان کے جو روزمرہ معمولات بنے ہوئے ہیںوہ اثر انداز ہوں گے۔

بچوں کی اکثریت چھٹیوں کا دورانیہ بغیر کسی منصوبہ بندی اور ترتیب کے گزار دیتی ہے،جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب بچے گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد اسکول جاتے ہیں تو وہ سب کچھ بھول چکے ہوتے ہیںجس کی اساتذہ کو ہمیشہ شکایت ہوتی ہے کیونکہ زیادہ تر بچے یہ دورانیہ بغیر کسی مہارت کو سیکھے گزار دیتے ہیںاور اپنا وقت ضائع کر دیتے ہیں۔اگر انھی چھٹیوں کومنصوبہ بندی کے تحت گزارا جائے تو نہ صرف بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارا جا سکتا ہے بلکہ بچوں کے ساتھ ایک دوستانہ تعلق کو بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔

٭ والدین کو چاہیے کہ ایک کیلنڈر لیں اور بچوں کے ساتھ مل کرگرمیوں کی چھٹیوں کی ایک منصوبہ بندی کریں اور کیلنڈر بناتے ہوئے بچوں سے بھی رائے لیں،مثال کے طور پرچھٹیوں میں بچوں کی سیر و تفریح یا مطالعاتی دورہ کے لیے جو بھی منصوبہ بنایا گیا ہے اسے کیلنڈر پر لکھا جائے۔اسی طرح اور بھی دنوں کی پلاننگ کی جائے ۔

٭ بچوں کے ساتھ مل کر ان کے روزمرہ معمولات کو بھی ترتیب دیںاور ان کے لیے ایک ٹائم ٹیبل سیٹ کیا جائے اور اس میں بچوں کے کھیلنے کے اوقات کا بھی ذکر کیا جائے۔

٭ سکول سے بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے چھٹیوں کا کام دے دیا جاتا ہے۔والدین کو چاہیے کہ اس کام کی باقاعدہ منصوبہ بندی کریں اور اسے روزانہ کی بنیاد پر مختلف حصوں میں تقسیم کریں تا کہ ایسا نہ ہو کہ چھٹیاں ختم ہو جائیں اور بچوں کا کام مکمل نہ ہو۔

٭ والدین کے پاس چھٹیوں میں بہت اچھا موقع ہوتا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ بات چیت یا گپ شپ کو زیادہ بڑھائیں،کیونکہ عام دنوں میں بچوں کی مصروفیات کی وجہ سے والدین کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتاکہ وہ بچوں کو صحیح طریقے سے توجہ دے سکیں۔

٭ بچوں سے تبادلہ خیال کر کے ان کی دلچسپیوں اور پسندیدہ مشاغل کو تلاش کیا جائے اور ان کے لیے ایسی سرگرمیوں کو تلاش کیا جائے جو ان کے لیے بامقصد بھی ہوں اور پر لطف بھی،مثال کے طور پران کے ساتھ مل کر کوئی تخلیقی کام کیا جائے جیسا کہ کوئی آرٹ ورک یا کوئی سائنسی پروجیکٹ بنایا جائے۔

٭ گھریلو معاملات میں بھی ان کو شامل کیا جائے اور ان کی رائے بھی لی جائے،اس سے بچے میں خوداعتمادی پیدا ہو گی۔

٭ بچوں کے ساتھ مل کر سیاحت کا کوئی منصوبہ بنایا جائے اور کوشش کی جائے کہ بچوں کو شہر سے باہر کسی تفریحی مقام پر لے کر جائیں تا کہ بچے اپنے آپ کو روزمرہ کی فکروں سے آزاد پائیںاور پر سکون محسوس کریں۔

٭ بچوں میں مطالعہ کتب کی عادت ڈالیں ۔بچوں کو لائبریری لے کر جائیں اور کسی دلچسپ کتاب کا انتخاب کیا جائے ۔اس کتاب پر بچوں سے تبصرہ بھی لکھوایا جائے ،مثال کے طور بچے ااپنے پسندیدہ کردار اور مصنف کانام بھی لکھیںاور یہ بھی بتائیں کہ انھیں یہ کتاب کیسی لگی۔

٭ بچوں کو کسی بک شاپ پر لے جا کر اخلاقیات پر مبنی کسی دلچسپ کتاب کا انتخاب کیا جائے اور بچوں سے کہا جائے کہ ایک بک مارک خود ڈیزائن کریںجو دو کالمز پر مشتمل ہو،ایک کالم میں تاریخ لکھی جائے اوردوسرے کالم میں صفحوں کی تعداد لکھی جائے ۔بچوں سے کہا جائے کہ کتاب پڑھنے کے ساتھ ساتھ بک مارک پر تاریخ اور صفحوں کی تعداد لکھ کراسے مکمل کریں۔بچوں کے لیے یہ دلچسپ اور تخلیقی سرگرمی ثابت ہو گی۔

٭ بچوں کے ساتھ مل کر کوئی اچھی سی مووی دیکھی جائے اور بچوں کے ساتھ اس پر تبادلہ خیال کرنے کے بعدانھیں کہا جائے کہ اس مووی کو اپنے الفاظ میں ایک صفحے پر تحریر کریں۔

٭ بچوں کو ان کے دوستوں کے ساتھ ملنے کا موقع بھی دیا جائے اور انھیں قریبی عزیز و اقارب کے گھر لے کر جائیں،اس سے بچے کی سماجی نشوونما بہتر ہو گی۔

٭ بچوں کو اخبار ،رسالے یا بچوں کے میگزین پڑھنے کے لیے دیئے جائیں ۔

٭ بچوں سے کہا جائے کہ اپنی چھوٹی سی ڈکشنری ذاتی لغت بنائیں اور اس میں ایسے الفاظ لکھیں جو وہ زیادہ سنتے یا پڑھتے ہیں۔

٭ چھٹیوں میں بچوں کی لکھائی کو بہتر بنایا جائے،ہر ہفتے کسی بھی اخبا،رسالے یا کسی کتاب وغیرہ سے خوشخطی کے دو صفحات کروائے جائیں۔

٭ بچوں کو تاریخی مقامات کی سیر بھی کروائی جائے۔بچوں کو بادشاہی مسجد،شاہی قلعہ،لاہور میوزیم اور واہگہ بارڈر بھی لے جایا جا سکتا ہے۔ان مطالعاتی دوروں سے بچوں کی معلومات میں اضافہ ہوگا۔

٭ بچوں کے لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل بھی بہت ضروری ہے تا کہ بچے جسمانی طور پر صحت مند رہ سکیں۔موسم گرما میں بچوں کے لیے ان ڈورگیمز مناسب رہتی ہیںجیسا کہ کیرم،بیڈمنٹن،سکوائش وغیرہ۔

آج کل کے طرز زندگی کی ایک نمایاںبات ہر کسی کی بڑھتی ہوئی مصروفیت ہے۔والدین کو اپنی مصروفیات سے فراغت نہیں ملتی اور بچے اپنی دنیا میں مست رہتے ہیں۔اس صورت حال کی وجہ سے والدین اور بچوں میں ایک ان دیکھی دیواریا خلیج قائم ہو جاتی ہے اور والدین کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے بچے کیا جذبات و احساسات رکھتے ہیں ۔گرمیوں کی تعطیلات میں والدین کے پاس ایک بہت بڑا موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوستانہ انداز میں پروان چڑھائیں۔ان کی تخلیقی مہارتوں اور ان کی توانائیوں کو مثبت انداز سے سامنے لائیں۔گھریلو معاملات میں ان کی رائے بھی لیںاور بچوں کو کوالٹی ٹائم دیں۔

ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہ ساری تجاویزپر عمل درآمد کروانا مشکل لگے اور فوری طور پر ان سب پر عمل کروایا بھی نہیں جا سکتا،صرف آپ کا اور آپ کے بچے کا ایک قدم آپ کے بچے کو آپ کی توقعات سے بھی آگے لے جائے گا۔آپ کبھی اپنے بچے کے لیے وقت نکال کر تو دیکھیں ،ان کی ترجیحات کو سمجھ کرتو دیکھیں ۔کبھی بچے کے ساتھ بچہ بن کے دیکھیں،اس کی بات کو غور سے سن کر دیکھیں۔آپ کو اندازہ ہی نہیں کہ ہمارے بچے ہم سے کتنا آگے ہیں۔ضروری نہیں کہ صرف خداداد صلاحیتیں رکھنے والے بچے ہی آگے بڑھیں،بعض اوقات والدین کی تحریک اور توجہ عام بچے کو بھی بہت آگے لے جاتی ہے ۔جب آپ ان تجاویز پر عمل درآمد کروانا شروع کریں گے تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ یہ سب تجاویز صرف کتابی حد تک نہیں ہیں بلکہ یہ وہ تجربات ہیں جو ایک موثر استاداپنے تجربے اور نیک نیتی کے بعد حاصل کرتا ہے۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *